نئی دہلی،یکم ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) حقوق انسانی کے علمبردار اورسینئر وکیل پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کا مجرم قرار دینے کے بعد سپریم کورٹ نے پیر کو انہیں ایک روپے جرمانےکی علامتی سزا سنائی ساتھ ہی سختی کا بھی مظاہرہ کیا کہ اگر 15؍ ستمبر تک وہ جرمانے کی رقم کورٹ کی رجسٹری میں جمع نہیں کرواتے تو پھر انہیں 3؍ ماہ کی قید کا سامنا کرنا پڑےگا ساتھ ہی سپریم کورٹ میں بطور وکیل ان کی پریکٹس پر بھی 3؍ سال کیلئے پابندی عائد ہوگی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد پرشانت بھوشن نے پریس کانفرنس کرکے ایک بار پھر اپنے اسی موقف کو دہرایا کہ ان کے ٹویٹس کا مقصد سپریم کورٹ کی توہین قطعی نہیں تھا۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ملک کے اس اعلیٰ ترین انصاف کے مرکز کا دل سے احترام کرتے ہیں، بھوشن نے اعلان کیا کہ وہ جرمانہ کی رقم ادا کردیں گے ساتھ ہی کہا کہ فیصلے کو چیلنج کرنے کے اختیار کا وہ ضرور استعمال کریں گے۔
62؍ صفحہ کے فیصلے میں بھوشن پر برہمی کااظہار: 62؍ صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جسٹس ارون مشرا کی قیادت والی بنچ نے کہا ہے کہ بھوشن کا رویہ ’’ضد اور انا‘‘ کا مظہر ہےجس کیلئے نظام انصاف میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ سہ رکنی بنچ جس نے توہین عدالت کا مجرم قرار دینے کے بعد بھی بھوشن کو معافی مانگ لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی، نے کہا ہے کہ ’’انہوں نے اس ادارہ (سپریم کورٹ) کو جو نقصان پہنچایا ہے اس پر انہیں افسوس تک نہیں ہے۔‘‘
رحم کی اپیل نہ کرنے کے بعد بھی رحم کا مظاہرہ : اس بات کاذکر کرتے ہوئے کہ توہین عدالت کا مجرم قرار دیئے جانے کے بعد بھی پرشانت بھوشن نے عدالت سے کسی طرح کے رحم یا نرمی کی اپیل نہیںکی ہے بلکہ کہا ہے کہ قانوناً کسی بھی سزا کیلئے تیار ہیں، کورٹ نے کہا ہے کہ مگر ’’ہم محض اس بنا پر انتقامی رویہ اختیار نہیں کرسکتے۔‘‘کورٹ نے اعتراف کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آزادی اظہار رائے کے حق کا استعمال کرتے ہوئےسسٹم پر مثبت انداز میں تنقید کا خیرمقدم کیا جاناچاہئے اور ججوں کا بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ تاہم کورٹ نے کہا کہ ’’مگر اس کا اتنا طول نہیں دیا جانا چاہئے کہ بدنیتی پر مبنی اور بدنامی کا باعث بننے والے بیانات کی اجازت دیدی جائے۔ کورٹ کو صرف اس وقت کارروائی کرنی چاہئے جب حملہ اس حد سے آگے بڑھ جائےجس کی اجازت ہے۔‘‘
فیصلہ ارون مشرا نے پڑھا مگر کس نے لکھا معلوم نہیں: عدالت میں فیصلہ سہ رکنی بنچ کے سینئر ترین جج جسٹس ارون مشرا نے پڑھ کر سنایا جو ۲؍ ستمبر کو سبکدوش ہورہےہیں مگر بابری مسجد ملکیت کیس کےمتنازع فیصلے کی طرح پرشانت بھوشن کو سزا سنانے کے اس فیصلے میں بھی یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ اسے تحریر کس نے کیا ہے۔ سہ رکنی بنچ جس میں جسٹس مشرا کے علاوہ جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کرشنا مراری بھی شامل ہیں، پرشانت بھوشن کے جرم کو سنگین قراردیا۔ بنچ کے مطابق’’انہوں نے ادارہ (سپریم کورٹ) کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔‘‘